گجراتی ٹرکا

گُناہ ٹیکس…تحریر چوہدری محمد شہباز

ٹی وی نشریات پر جب ٹکر چل رہا تھا کہ حکومت سگریٹ،سافٹ ڈرنک اور دیگر پر گُناہ ٹیکس عائد کرنا چاہ رہی ہے.تو مجھے ایسے لگا شاید یہ گنا ٹیکس ہے.کیونکہ اس وقت کاشتکار بھی گنے کی قیمتوں،بجلی کے بلز اور واجبات کی ادائیگی کے مطالبے پر اجتجاج بھی کر رہے تھے.اور اور گنا ٹیکس کے ساتھ ہ کا اضافہ غلطی سے ہو گیا ہے.مگر اگلے چند منٹوں کے بعد جب خبروں کا بُلٹین شروع ہوا تو پتہ چلہ یہ ہ غلطی سے نہیں بلکہ واقع میں ہی گُناہ ٹیکس ہے.کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اور نہ ہی کوئی تفصیل نشر کی گئی بس سوچتا رہ گیا کہ میں تو سگریٹ نہیں پیتا اس لئے مجھے نہ تو یہ ٹیکس لگے گا اور نہ ہی مجھے سگریٹ پینے کا گُناہ ہو گا.پھر خیال آیا کہ سگریٹ کا گُناہ تو تمھیں نہیں لگے گا مگر سوفٹ ڈرنک کے شوقین ایسے ہو کہ دوستوں کو پتہ چلے تو انہیں یقین نہیں آتا کہ صبح ناشتہ میں اگر 2 ابُلے ہوئے انڈے کھانے کو ملیں تو انکے ساتھ بھی چائے کی بجائے سافٹ ڈرنک ہی میری پسند کی وجہ سے دیا جاتا ہے.سوچ میں پڑ گیا کہ گُناہ ٹیکس دینے کو دے دوں گا کیونکہ حکومت نے اگر اسے لاگو کر دیا تو پھر لازمی ہو جائے گا مگر فکر اس بات کی تھی کہ یہ گُناہ ٹیکس دینے سے اپنے گناہوں کی فہرست میں ایک سرکاری اور تصدیق شدہ گناہ کا بھی اضافہ ہو جائے گا.جسکی نہ تو تردید اور نہ ہی انکار ممکن ہو گا.اور جھوٹی شرافت کا بھید کھل جائے گا.مگر بھلا ہو سوشل میڈیا کا انہوں نے حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیا کہ اب حکومت نے فتوے بھی جاری کرنے شروع کر دیئے ہیں.اور سگریٹ،سافٹ ڈرنک پر گُناہ ٹیکس لگایا جا رہا ہے.ٹیکس ہی لگانا تھا تو نام ہی بدل دو.گُناہ ٹیکس ہی کیوں! اور اگر حکومت گُناہ ٹیکس ہی لگانا چاہتی ہے تو پھر باقی سارے چھوٹے موٹے گناہوں کو بھی ڈکلیئر کر کے ان پر بھی گناہ کے سکیل کے حساب سے گُناہ ٹیکس نافذ کر دیا جائے.

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ اور فلم انڈسٹری : پاکستانی ڈرامہ اور فلم

جب گُناہ ٹیکس کے حوالےسے سوشل میڈیا اور بین الاقوامی قوانین اور ٹیکسز کے حوالے سے معلومات کی تو پتہ چلا کہ اس گُناہ ٹیکس کا موجد فلپائن حکومت ہے جس نے بغیر گُناہ کے یہ گُناہ ٹیکس نافذ کر دیا اور اس وقت امریکہ،برطانیہ سمیت بھارت،سعودیہ عرب اور یو اے ای ایسی مختلف مصنوعات جن میں سگریٹ،الکوحل،سافٹ ڈرنک،پان گٹکا،پورنو گرافی اور سٹہ بازی کیلئے ایسے گناہ ٹیکس نافذ کر رکھا ہے.اور اس کی وضاحت کرتے ہوئےیہ کہا گیا ہے کہ ایسی پروڈکٹ جس کے استعمال سے انسانی صحت کو نقصان پہنچتا ہے ان کے استعمال کو روکنے یا اسکا استعمال کم سے کم کرنے کیلئے گُناہ ٹیکس(SIN TAX) نافذ کیا جاتا ہے.سوشل میڈیا پر تو یہ بھی کہا گیا ہے کہ چلو سگریٹ کق ایک چھوٹا سا گناہ مان بھی لیا جائے تو سافٹ ڈرنک کو اس زمرے میں کیسے فٹ کیا جائے گا.

2 تبصرے “گُناہ ٹیکس…تحریر چوہدری محمد شہباز

اپنا تبصرہ بھیجیں